EN हिंदी
یہ تری خلق نوازی کا تقاضہ بھی نہیں | شیح شیری
ye teri KHalq-nawazi ka taqaza bhi nahin

غزل

یہ تری خلق نوازی کا تقاضہ بھی نہیں

شکیل جمالی

;

یہ تری خلق نوازی کا تقاضہ بھی نہیں
کہیں دریا ہے رواں اور کہیں قطرہ بھی نہیں

اپنے آقاؤں کے عیبوں کو محاسن سمجھے
اتنی پابند عقیدت تو رعایا بھی نہیں

اختیارات سے حق تک ہیں زبانی باتیں
دستخط کیا کسی کاغذ پہ انگوٹھا بھی نہیں

کوئی امکان نہیں ہے کسی خوش فہمی کا
چارہ گر تم ہو تو پھر زخم کو بھرنا بھی نہیں

اشتہارات لگے ہیں مری خوشحالی کے
اور تھالی میں مری خشک نوالہ بھی نہیں

یہ اجالا کوئی سازش ہے یہ جگنو ہے فریب
صبح سے پہلے چراغوں کو بجھانا بھی نہیں