EN हिंदी
یہ تری دشنام کے پیچھے ہنسی گل زار سی | شیح شیری
ye teri dushnam ke pichhe hansi gulzar si

غزل

یہ تری دشنام کے پیچھے ہنسی گل زار سی

آبرو شاہ مبارک

;

یہ تری دشنام کے پیچھے ہنسی گل زار سی
خوب لگتی ہے گنہ کے بعد استغفار سی

یار کی انکھیوں سیتی جب سیں لگا ہے میرا دل
طبع میری تب سیتی رہتی ہے کچھ بیمار سی

حسن کی چڑھتی کبھی ہو ہے کبھی بڑھتی کلا
چاند کی ہوتی نہیں گنتی میں دن ہر بار سی