EN हिंदी
یہ شہر طرب دیکھ بیابان میں کیا ہے | شیح شیری
ye shahr-e-tarab dekh bayaban mein kya hai

غزل

یہ شہر طرب دیکھ بیابان میں کیا ہے

عبید صدیقی

;

یہ شہر طرب دیکھ بیابان میں کیا ہے
اے طائر وحشت ترے امکان میں کیا ہے

جگنو کی طرح پھرتے ہیں تارے مرے دل میں
کس سوچ میں گم ہوں یہ مرے دھیان میں کیا ہے

کیا ان پہ گزرتی ہے سنو ان کی زبانی
زخموں سے کبھی پوچھو نمک دان میں کیا ہے

انکار سے اقرار کا رشتہ ہے بھلا کیا
یہ کفر کی صورت مرے ایمان میں کیا ہے

یادوں کی گھنی چھاؤں ہے یا غم کی سیاہی
اشجار صفت صحن دل و جان میں کیا ہے