EN हिंदी
یہ رشتۂ جاں میری تباہی کا سبب ہے | شیح شیری
ye rishta-e-jaan meri tabahi ka sabab hai

غزل

یہ رشتۂ جاں میری تباہی کا سبب ہے

شمیم حنفی

;

یہ رشتۂ جاں میری تباہی کا سبب ہے
اس قید سے چھٹنے کی تمنا بھی عجب ہے

اس عرصۂ محشر میں خموشی بھی صدا ہے
ٹوٹی ہوئی قبروں میں بڑا شور و شعب ہے

سورج کو یہ ضد اس کی اک بوند نہ رہ جائے
ہونٹوں کو فقط پیاس بجھانے کی طلب ہے

چہرے پہ تھکن سانس کی زنجیر پریشاں
آنکھوں میں مگر اب بھی وہی غیظ و غضب ہے

کیوں دل کو یہ حسرت ہے کسی اور کو پالے
اس شہر میں مجھ سا کوئی پہلے تھا نہ اب ہے