EN हिंदी
یہ پیڑ یہ پہاڑ زمیں کی امنگ ہیں | شیح شیری
ye peD ye pahaD zamin ki umang hain

غزل

یہ پیڑ یہ پہاڑ زمیں کی امنگ ہیں

آفتاب اقبال شمیم

;

یہ پیڑ یہ پہاڑ زمیں کی امنگ ہیں
سارے نشیب جن کی اٹھانوں پہ دنگ ہیں

باہر ہو حبس پھر بھی دریچہ کھلا رکھوں
یہ خود تسلیاں مرے جینے کا ڈھنگ ہیں

ڈھونڈوں کہ انتہا کی مجھے انتہا ملے
یہ شش جہات میری تمنا پہ تنگ ہیں

اک عمر اک مکان کی تعمیر میں لگے
ایام سے زیادہ گراں خشت و سنگ ہیں

چہکے ہزار صوت میں یہ طائر نظر
کرنوں کے پاس یوں تو یہی سات رنگ ہیں

ویسے ہمیں ندامت بے چہرگی نہیں
ہر چند تیرے شہر میں بے نام و ننگ ہیں