EN हिंदी
یہ نشۂ آگاہی خطرناک ہے سر میں | شیح شیری
ye nashsha-e-agahi KHatarnak hai sar mein

غزل

یہ نشۂ آگاہی خطرناک ہے سر میں

محمد اعظم

;

یہ نشۂ آگاہی خطرناک ہے سر میں
ٹوٹے ہیں مرے پاؤں اسی راہ گزر میں

رم جھم کے عقب زار میں باراں ہے ابھی آگ
اچھا ہے نہ دیکھے وہ مرے دیدۂ تر میں

سرمایۂ جاں یوں نہ اٹھا سارے حجابات
تو آنکھ کے پردوں کی بدولت ہے نظر میں

آنسو تھا وہ نکلا تو گیا توڑ کے ہر بند
خوشبو تھا کہ گھر چھوڑ کے بھی رہتا ہے گھر میں

اس بارگہہ ناز ہے ہم سے فقرا کو
خیرات تو ملتی ہے ولے کاسۂ سر میں

رہتی ہیں مرے ساتھ وہ آگاہ نگاہیں
کچھ فرق نہ تھا ورنہ مرے عیب و ہنر میں