EN हिंदी
یہ مطلب ہے کہ مضطر ہی رہوں میں بزم قاتل میں | شیح شیری
ye matlab hai ki muztar hi rahun main bazm-e-qatil mein

غزل

یہ مطلب ہے کہ مضطر ہی رہوں میں بزم قاتل میں

نوح ناروی

;

یہ مطلب ہے کہ مضطر ہی رہوں میں بزم قاتل میں
تڑپتا لوٹتا داخل ہوا آداب محفل میں

اثر کچھ آپ نے دیکھا ہمارے جذب کامل کا
ادھر چھوٹے کماں سے اور ادھر تیر آ گئے دل میں

الٰہی کس سے پوچھیں حال ہم گور غریباں کا
کہ سارے اہل محمل چپ ہیں اس خاموش محفل میں

ادھر آ کر ذرا آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والے
وہ لٹکا تو بتا دے جس سے دل ہم ڈال دیں دل میں

بدل دے اس طرح اے چرخ حسن و عشق کا منظر
پس محفل ہو لیلیٰ قیس ہو لیلیٰ کے محمل میں

بندھے شرط وفا کیونکر نبھے رسم وفا کیونکر
یہاں کچھ اور ہے دل میں وہاں کچھ اور ہے دل میں

ہمارے دل کی دنیا رہ گئی زیر و زبر ہو کر
قیامت ڈھا گیا زانو بدلنا ان کا محفل میں

یہ کیا اندھیر ہے کیسا غضب ہے کیا تماشا ہے
مٹاؤ بھی اسی دل کو رہو بھی تم اسی دل میں

تماشا ہم بھی دیکھیں ڈوب کر بحر محبت کا
اپاہج کی طرح بیٹھے ہیں کیا آغوش ساحل میں

طریقہ اس سے آساں اور کیا ہے گھر بنانے کا
مرے آغوش میں آ کر جگہ کر لیجیے دل میں

بڑھا اے نوحؔ جب طوفان دریائے حوادث کا
تو غوطے ورط غم نے دے دیئے افکار ساحل میں