یہ مرحلہ ہے مرے آزمائے جانے کا
ملا ہے حکم مجھے کشتیاں جلانے کا
بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں تمام اہل ستم
فصیل شہر وفا میں نقب لگانے کا
بڑے سکون سے سوئی ہے آج خلقت شہر
منا کے جشن چراغوں کی لو بجھانے کا
ہوائے شہر ہی جب ہو گئی خلاف مرے
اسے بھی آ گیا فن انگلیاں اٹھانے کا
مرے وجود میں زندہ ہے شوکت ماضی
میں اک ستون ہوں گزرے ہوئے زمانے کا
رکی ہوئی ہے لب خشک پر حیات کی بوند
پھر اس کے بعد تو منظر ہے ڈوب جانے کا
سفر کی شام مری زندگی کے ماتھے پر
بس اک ستارہ ترے نور آستانے کا
غزل
یہ مرحلہ ہے مرے آزمائے جانے کا
خاور اعجاز

