EN हिंदी
یہ مرحلہ ہے مرے آزمائے جانے کا | شیح شیری
ye marhala hai mere aazmae jaane ka

غزل

یہ مرحلہ ہے مرے آزمائے جانے کا

خاور اعجاز

;

یہ مرحلہ ہے مرے آزمائے جانے کا
ملا ہے حکم مجھے کشتیاں جلانے کا

بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں تمام اہل ستم
فصیل شہر وفا میں نقب لگانے کا

بڑے سکون سے سوئی ہے آج خلقت شہر
منا کے جشن چراغوں کی لو بجھانے کا

ہوائے شہر ہی جب ہو گئی خلاف مرے
اسے بھی آ گیا فن انگلیاں اٹھانے کا

مرے وجود میں زندہ ہے شوکت ماضی
میں اک ستون ہوں گزرے ہوئے زمانے کا

رکی ہوئی ہے لب خشک پر حیات کی بوند
پھر اس کے بعد تو منظر ہے ڈوب جانے کا

سفر کی شام مری زندگی کے ماتھے پر
بس اک ستارہ ترے نور آستانے کا