EN हिंदी
یہ لگتا ہے اب بھی کہیں کچھ بچا ہے | شیح شیری
ye lagta hai ab bhi kahin kuchh bacha hai

غزل

یہ لگتا ہے اب بھی کہیں کچھ بچا ہے

امت شرما میت

;

یہ لگتا ہے اب بھی کہیں کچھ بچا ہے
تمہارا دیا زخم اب تک ہرا ہے

کہو کون سی شکل دیکھو گے اب تم
یہ چہرہ تو اک آورن سے ڈھکا ہے

لگا ہے زمانہ عبادت میں جس کی
وہ رہتا کہاں ہے تمہیں کچھ پتا ہے

گناہوں سے توبہ کرو وقت رہتے
وگرنہ تو دوزخ کا رستہ کھلا ہے

محبت محبت محبت محبت
اماں یار چھوڑو یہ ہلکا نشہ ہے

بھلائی کرو تو ملے ہے برائی
یہ قصہ مری زندگی سے جڑا ہے

غلط فہمیاں میتؔ رکھو نہ دل میں
وہی سچ نہیں جتنا تم نے سنا ہے