EN हिंदी
یہ کتابوں سی جو ہتھیلی ہے | شیح شیری
ye kitabon si jo hatheli hai

غزل

یہ کتابوں سی جو ہتھیلی ہے

سوپنل تیواری

;

یہ کتابوں سی جو ہتھیلی ہے
سب سے مشکل یہی پہیلی ہے

میری ہم عمر ہے یہ تنہائی
ساتھ بچپن سے میرے کھیلی ہے

ہنستی رہتی ہے ایک کھڑکی پر
اپنی دیوار میں اکیلی ہے

کھل رہی ہے یہ بات ہم پر بھی
زندگی اک کٹھن پہیلی ہے

ایک روزن سے چھن کے آ تو گئی
گھر میں لیکن کرن اکیلی ہے

نرم و نازک سی خوبصورت سی
زندگی پیار کی ہتھیلی ہے

شکریہ ان سبھی کو کہ آتشؔ
آنچ جس نے بھی تیری جھیلی ہے