EN हिंदी
یہ کس نے کہہ دیا آخر کہ چھپ چھپا کے پیو | شیح شیری
ye kis ne kah diya aaKHir ki chhup-chhupa ke piyo

غزل

یہ کس نے کہہ دیا آخر کہ چھپ چھپا کے پیو

درشن سنگھ

;

یہ کس نے کہہ دیا آخر کہ چھپ چھپا کے پیو
یہ مے ہے مے اسے اوروں کو بھی پلا کے پیو

غم جہاں کو غم زیست کو بھلا کے پیو
حسین گیت محبت کے گنگنا کے پیو

چھٹے نہ دامن طاعت بھی وقت مے نوشی
پیو تو سجدۂ الفت میں سر جھکا کے پیو

بجھے بجھے سے ہوں ارماں تو کیا فروغ نشاط
جو سو گئے ہیں ستارے انہیں جگا کے پیو

غم حیات کا درماں ہیں عشق کے آنسو
اندھیری رات ہے یارو دیے جلا کے پیو

نصیب ہوگی بہر کیف مرضیٔ ساقی
ملے جو زہر بھی یارو تو مسکرا کے پیو

مرے خلوص پہ شیخ حرم بھی کہہ اٹھا
جو پی رہے ہو تو درشنؔ حرم میں آ کے پیو