EN हिंदी
یہ کون سا سورج مرے پہلو میں کھڑا ہے | شیح شیری
ye kaun sa suraj mere pahlu mein khaDa hai

غزل

یہ کون سا سورج مرے پہلو میں کھڑا ہے

رشید قیصرانی

;

یہ کون سا سورج مرے پہلو میں کھڑا ہے
مجھ سے تو رشیدؔ اب مرا سایہ بھی بڑا ہے

تو جس پہ خفا ہے مرے اندر کا یہ انسان
اس بات پہ مجھ سے بھی کئی بار لڑا ہے

دیکھا جو پلٹ کر تو مرے سائے میں گم تھا
وہ شخص جو مجھ سے قد و قامت میں بڑا ہے

صدیوں اسے پالا ہے سمندر نے صدف میں
پل بھر کے لئے جو مری پلکوں میں جڑا ہے

خورشید کے چہرے پہ لکیریں ہیں لہو کی
خنجر سا کوئی رات کے سینے میں گڑا ہے

اک لفظ جو نکلا تھا صفیں دل کی الٹ کر
مدت سے مرے لب پہ وہ بے جان پڑا ہے

ٹکرا کے پلٹتا ہوں لگاتار ادھر سے
یہ سنگ صفت کون سر راہ کھڑا ہے