EN हिंदी
یہ کہاں لگی یہ کہاں لگی جو قفس سے شور فغاں اٹھا | شیح شیری
ye kahan lagi ye kahan lagi jo qafas se shor-e-fughan uTha

غزل

یہ کہاں لگی یہ کہاں لگی جو قفس سے شور فغاں اٹھا

ریاضؔ خیرآبادی

;

یہ کہاں لگی یہ کہاں لگی جو قفس سے شور فغاں اٹھا
جلے آشیانے کچھ اس طرح کہ ہر ایک دل سے دھواں اٹھا

لگی آگ میرے جگر میں یوں نہ لگے کسی کے بھی گھر میں یوں
نہ تو لو اٹھی نہ چمک ہوئی نہ شرر اڑے نہ دھواں اٹھا

کوئی مست مے کدہ آ گیا مے بے خودی وہ پلا گیا
نہ صدائے نغمۂ دیر اٹھی نہ حرم سے شور اذاں اٹھا

گئے ساتھ شیخ حرم کے ہم نہ کوئی ملا نہ لئے قدم
نہ تو خم بڑھا نہ سبو جھکا جو اٹھا تو پیر مغاں اٹھا

لب خم سے نکلے صدائے قم سردوش ایسے ہزار خم
خم آسماں بھی ہو جس میں گم وہ سیاہ ابر کہاں اٹھا

تجھے مئے فروش خبر بھی ہے کہ مقام کون ہے کیا ہے شے
یہ رہ حرم میں دکان مے تو یہاں سے اپنی دکاں اٹھا

یہ سپید ریش ریاضؔ ہے جو بنا ہے بزم میں پند گو
اسے کیوں نہ ابر سیہ کہوں کہ برس پڑا یہ جہاں اٹھا