EN हिंदी
یہ جو ٹھہرا ہوا منظر ہے بدلتا ہی نہیں | شیح شیری
ye jo Thahra hua manzar hai badalta hi nahin

غزل

یہ جو ٹھہرا ہوا منظر ہے بدلتا ہی نہیں

آفتاب اقبال شمیم

;

یہ جو ٹھہرا ہوا منظر ہے بدلتا ہی نہیں
واقعہ پردۂ ساعت سے نکلتا ہی نہیں

آگ سے تیز کوئی چیز کہاں سے لاؤں
موم سے نرم ہے وہ اور پگھلتا ہی نہیں

یہ مری خمس حواسی کی تماشا گاہیں
تنگ ہیں ان میں مرا شوق بہلتا ہی نہیں

پیکر خاک ہیں اور خاک میں ہے ثقل بہت
جسم کا وزن طلب ہم سے سنبھلتا ہی نہیں

غالباً وقت مجھے چھوڑ گیا ہے پیچھے
یہ جو سکہ ہے مری جیب میں چلتا ہی نہیں

ہم پہ غزلیں بھی نمازوں کی طرح فرض ہوئیں
قرض نا خواستہ ایسا ہے کہ ٹلتا ہی نہیں