EN हिंदी
یہ جو چہرہ پے مسکراہٹ ہے | شیح شیری
ye jo chehre pe muskurahaT hai

غزل

یہ جو چہرہ پے مسکراہٹ ہے

پرتاپ سوم ونشی

;

یہ جو چہرہ پے مسکراہٹ ہے
اک سجاوٹ ہے اک بناوٹ ہے

مجھ میں تجھ میں بس ایک رشتہ ہے
تیرے اندر بھی کھٹ پٹاہٹ ہے

کچھ تقاضے ہیں کچھ ادھاری ہے
عمر کا بوجھ ہے تھکاوٹ ہے

ہر کوئی پڑھ سمجھ نہ پائے گا
وقت کے ہاتھ کی لکھاوٹ ہے

گالیوں کی طرح ہی لگتی ہے
یہ جو نقلی سی مسکراہٹ ہے