EN हिंदी
یہ ہم پر لطف کیسا یہ کرم کیا | شیح شیری
ye hum par lutf kaisa ye karam kya

غزل

یہ ہم پر لطف کیسا یہ کرم کیا

عزیز وارثی

;

یہ ہم پر لطف کیسا یہ کرم کیا
بدل ڈالے ہیں انداز ستم کیا

زمانہ ہیچ ہے اپنی نظر میں
زمانے کی خوشی کیا اور غم کیا

جب اس محفل کو ہم کہتے ہیں اپنا
پھر اس محفل میں فکر بیش و کم کیا

نظر آتی ہے دنیا خوبصورت
مرے ساغر کے آگے جام و جم کیا

جبیں ہے بے نیاز کفر و ایماں
در بت خانہ کیا صحن حرم کیا

تری چشم کرم ہو جس کی جانب
اسے پھر امتیاز بیش و کم کیا

مرے ماہ منور تیرے آگے
چراغ دیر کیا شمع حرم کیا

نگاہ ناز کے دو شعبدے ہیں
عزیزؔ اپنا وجود اپنا عدم کیا