EN हिंदी
یہ ہم جو ہجر میں اس کا خیال باندھتے ہیں | شیح شیری
ye hum jo hijr mein us ka KHayal bandhte hain

غزل

یہ ہم جو ہجر میں اس کا خیال باندھتے ہیں

عباس تابش

;

یہ ہم جو ہجر میں اس کا خیال باندھتے ہیں
ہوا کی شاخ سے بوئے وصال باندھتے ہیں

ہمارے بس میں کہاں زیست کو سخن کرنا
یہ قافیہ فقط اہل کمال باندھتے ہیں

یہ عہد جیب تراشاں کو اب ہوا معلوم
یہاں کے لوگ گرہ میں سوال باندھتے ہیں

وہ خوب جانتے ہیں ہم دعا نہادوں کو
ہمارے ساتھ بوقت زوال باندھتے ہیں

سبھی کو شوق اسیری ہے اپنی اپنی جگہ
وہ ہم کو اور ہم ان کا خیال باندھتے ہیں

تمہیں پتہ ہو کہ ہم ساحلوں کے پروردہ
محبتوں میں بھی مضبوط جال باندھتے ہیں

پھر اس کے بعد کہیں بھی وہ جا نہیں سکتا
جسے بھی باندھتے ہیں ہم کمال باندھتے ہیں