EN हिंदी
یہ درویشوں کی بستی ہے یہاں ایسا نہیں ہوگا | شیح شیری
ye durweshon ki basti hai yahan aisa nahin hoga

غزل

یہ درویشوں کی بستی ہے یہاں ایسا نہیں ہوگا

منور رانا

;

یہ درویشوں کی بستی ہے یہاں ایسا نہیں ہوگا
لباس زندگی پھٹ جائے گا میلا نہیں ہوگا

شیئر بازار میں قیمت اچھلتی گرتی رہتی ہے
مگر یہ خون مفلس ہے کبھی مہنگا نہیں ہوگا

ترے احساس کی اینٹیں لگی ہیں اس عمارت میں
ہمارا گھر ترے گھر سے کبھی اونچا نہیں ہوگا

ہماری دوستی کے بیچ خود غرضی بھی شامل ہے
یہ بے موسم کا پھل ہے یہ بہت میٹھا نہیں ہوگا

پرانے شہر کے لوگوں میں اک رسم مروت ہے
ہمارے پاس آ جاؤ کبھی دھوکہ نہیں ہوگا

یہ ایسی چوٹ ہے جس کو ہمیشہ دکھتے رہنا ہے
یہ ایسا زخم ہے جو عمر بھر اچھا نہیں ہوگا