EN हिंदी
یہ دیکھ مرے نقش کف پا مرے آگے | شیح شیری
ye dekh mere naqsh-e-kaf-e-pa mere aage

غزل

یہ دیکھ مرے نقش کف پا مرے آگے

عباس تابش

;

یہ دیکھ مرے نقش کف پا مرے آگے
آگے بھی کہاں جاتا ہے رستہ مرے آگے

اے تشنہ لبی تو نے کہاں لا کے ڈبویا
اس بار تو دریا بھی نہیں تھا مرے آگے

ایسے نہیں مانوں گا میں ہستی کا توازن
تقطیع کیا جائے یہ مصرعہ مرے آگے

اے قامت دلدار گزشتہ کی معافی
پہلے کوئی معیار نہیں تھا مرے آگے

کیوں کر سخن آغاز کیا جائے کہ وہ آنکھ
لا رکھتی ہے اجداد کا لکھا مرے آگے

حیرت ہے کہ دیتی ہیں مجھے طعنۂ وحشت
ترتیب سے رکھی ہوئی اشیاء مرے آگے

میں جانتا ہوں اس کے سبھی بھید سبھی بھاؤ
دنیا نے کبھی رقص کیا تھا مرے آگے

میں عشق کے آداب ذرا سیکھ لوں پہلے
بیٹھے گی ادب سے یہی دنیا مرے آگے