EN हिंदी
یہ بت پھر اب کے بہت سر اٹھا کے بیٹھے ہیں | شیح شیری
ye but phir ab ke bahut sar uTha ke baiThe hain

غزل

یہ بت پھر اب کے بہت سر اٹھا کے بیٹھے ہیں

بسملؔ  عظیم آبادی

;

یہ بت پھر اب کے بہت سر اٹھا کے بیٹھے ہیں
خدا کے بندوں کو اپنا بنا کے بیٹھے ہیں

ہمارے سامنے جب بھی وہ آ کے بیٹھے ہیں
تو مسکرا کے نگاہیں چرا کے بیٹھے ہیں

کلیجہ ہو گیا زخمی فراق جاناں میں
ہزاروں تیر ستم دل پہ کھا کے بیٹھے ہیں

تم ایک بار تو رخ سے نقاب سرکا دو
ہزاروں طالب دیدار آ کے بیٹھے ہیں

ابھر جو آتی ہے ہر بار موسم گل میں
اک ایسی چوٹ کلیجے میں کھا کے بیٹھے ہیں

یہ بت کدہ ہے ادھر آئیے ذرا بسملؔ
بتوں کی یاد میں بندے خدا کے بیٹھے ہیں

پسند آئے گی اب کس کی شکل بسملؔ کو
نظر میں آپ جو اس کی سما کے بیٹھے ہیں