یہ بھی کوئی بات کہ صرف تماشا کر
بیچ رہا ہوں جنس دل و جاں سودا کر
میری خلوت کچھ ہنگامے رکھتی ہے
اور بھی لوگ آتے ہیں تو بھی آیا کر
اپنی نسبت کا اعزاز نہ مجھ سے چھین
جتنا جی چاہے تو مجھ کو رسوا کر
تجھ کو اپنے ساتھ ڈبونے والا میں
میرے لیے ایک ایک سے تو مت الجھا کر
میں بھی دیکھوں تیر پہ رم زنجیر پہ رقص
کچھ تو وحشت میرے غزال رعنا کر
گھول دے ہجر کے رنگوں میں کچھ دل کا لہو
کوئی نقش تو اس کی یاد کا زندہ کر
دیکھ اپنی آنکھوں سے رواں عصر عمر
رمزؔ اپنے کفر انا سے توبہ کر
غزل
یہ بھی کوئی بات کہ صرف تماشا کر
محمد احمد رمز

