یہ بلا میرے سر چڑھی ہی نہیں
میں نے کچے گھڑے کی پی ہی نہیں
آگ ایسی کبھی لگی ہی نہیں
کہ لگی دل کی پھر بجھی ہی نہیں
پی بھی یوں جیسے میں نے پی ہی نہیں
منہ سے میرے کبھی لگی ہی نہیں
دل نہ جب تک ہوا شریک حنا
مہندی ان کی کبھی پسی ہی نہیں
شکن زلف حلقۂ گیسو
بیڑیاں بھی ہیں ہتھکڑی ہی نہیں
کون لیتا بلائیں پیکاں کی
آرزو کوئی دل میں تھی ہی نہیں
کس قدر ہوں بنا ہوا میں بھی
جیسے میں نے شراب پی ہی نہیں
دل میں کیا آئے کیا چلے دل سے
تم نے چٹکی تو کوئی لی ہی نہیں
صبح کا جھٹپٹا تھا شام نہ تھی
وصل کی رات رات تھی ہی نہیں
کیوں سنے شیخ قلقل مینا
اس نے ایسی کبھی سنی ہی نہیں
آئے آنے کو فصل گل سو بار
میرے دل کی کلی کھلی ہی نہیں
ہائے سبزے میں وہ سیہ بوتل
کبھی ایسی گھٹا اٹھی ہی نہیں
لاگ بھی دل سے ہے لگاؤ کے ساتھ
دشمنی بھی ہے دوستی ہی نہیں
منہ لگانا مرا اک آفت تھا
خم میں وہ چیز جیسے تھی ہی نہیں
بزم آرائے حشر کے صدقے
محفل ایسی کبھی جمی ہی نہیں
کچھ مزے میں ہم آ گئے ایسے
توبہ پینے سے ہم نے کی ہی نہیں
کوئی نا خوش ریاضؔ سے کیوں ہو
اس روش کا وہ آدمی ہی نہیں
غزل
یہ بلا میرے سر چڑھی ہی نہیں
ریاضؔ خیرآبادی

