EN हिंदी
یہ بات یہ تبسم یہ ناز یہ نگاہیں | شیح شیری
ye baat ye tabassum ye naz ye nigahen

غزل

یہ بات یہ تبسم یہ ناز یہ نگاہیں

جوشؔ ملیح آبادی

;

یہ بات یہ تبسم یہ ناز یہ نگاہیں
آخر تمہیں بتاؤ کیونکر نہ تم کو چاہیں

اب سر اٹھا کے میں نے شکوؤں سے ہات اٹھایا
مر جاؤں گا ستم گر نیچی نہ کر نگاہیں

کچھ گل ہی سے نہیں ہے روح نمو کو رغبت
گردن میں خار کی بھی ڈالے ہوئے ہے بانہیں

اللہ ری دل فریبی جلووں کے بانکپن کی
محفل میں وہ جو آئے کج ہو گئیں کلاہیں

یہ بزم جوشؔ کس کے جلووں کی رہ گزر ہے
ہر ذرے میں ہیں غلطاں اٹھتی ہوئی نگاہیں