EN हिंदी
یہ اور بات ہمیں صورت گلاب لگے | شیح شیری
ye aur baat hamein surat-e-gulab lage

غزل

یہ اور بات ہمیں صورت گلاب لگے

جمیل ملک

;

یہ اور بات ہمیں صورت گلاب لگے
جمیلؔ زخم لگے اور بے حساب لگے

تمہارے بعد نہ تکمیل ہو سکی اپنی
تمہارے بعد ادھورے تمام خواب لگے

میں کیسے تجھ کو پکاروں کہاں سے لاؤں تجھے
ترے بغیر اگر زندگی عذاب لگے

میں جتنی بار پڑھوں کیسے کیسے رنگ بھروں
ترا گلاب سا چہرہ مجھے کتاب لگے

ہر اک سوال پہ تو مسکرا کے رہ جائے
ہمیں تو ایک ہی جیسا ترا جواب لگے

دکھائی دے کبھی مہتاب میں تری صورت
کبھی تو دن کے اجالے میں آفتاب لگے

جمیلؔ خواب حقیقت نما بھی ہوتے ہیں
وہی قریب رگ جاں ہے جو سراب لگے