EN हिंदी
یقیں سے نکلے تو جیسے گماں کی زد میں ہیں | شیح شیری
yaqin se nikle to jaise guman ki zad mein hain

غزل

یقیں سے نکلے تو جیسے گماں کی زد میں ہیں

اسعد بدایونی

;

یقیں سے نکلے تو جیسے گماں کی زد میں ہیں
یہ کیا تضاد ہے ہم کس زیاں کی زد میں ہیں

بہت طویل ہیں گویا رتوں کی زنجیریں
نئے شگوفے سبھی رفتگاں کی زد میں ہیں

انہیں نصیب ہو اب ماورا کوئی ساعت
ازل سے پیڑ بہار و خزاں کی زد میں ہیں

وہی سفر ہے سمندر بھی کشتیاں بھی وہی
ہوائیں اب کے مگر بادباں کی زد میں ہیں

سنو چراغ بجھا دو تمام خیمے کے
مرے عزیز شب امتحاں کی زد میں ہیں

جو ہم پہ عرصۂ خوش منظری میں بیت گئیں
کہانیاں ہیں مگر کب بیاں کی زد میں ہیں