EN हिंदी
یقیں کے بھی کیا کیا حجابات ہیں | شیح شیری
yaqin ke bhi kya kya hijabaat hain

غزل

یقیں کے بھی کیا کیا حجابات ہیں

سید ضمیر جعفری

;

یقیں کے بھی کیا کیا حجابات ہیں
حقیقت کی ضد اعتقادات ہیں

ترقی کے رستے نہ کھلتے مگر
یہ سب دوستوں کی عنایات ہیں

یہ زنجیر بھی اتنی محکم نہیں
حقائق بھی ذاتی خیالات ہیں

کوئی شخص خوبی سے خالی نہیں
ہر اک شخص کے اپنے حالات ہیں

فلک کو بھی دیکھیں گے لیکن ابھی
زمیں پر بھی کتنے مقامات ہیں

ادا کچھ کیا نسل فردا کا قرض
کہ ہم اے زمانے ترے ساتھ ہیں