EN हिंदी
یاں سے دیں گے نہ تم کو جانے آج | شیح شیری
yan se denge na tumko jaane aaj

غزل

یاں سے دیں گے نہ تم کو جانے آج

شاہ نصیر

;

یاں سے دیں گے نہ تم کو جانے آج
لاکھ اب تم کرو بہانے آج

بن لیے آج تیرا بوسۂ لب
کب بھلا دوں گا تجھ کو جانے آج

بس یہ مجھ سے نہ تم کرو کل کل
اتنی ہے کل کہاں کہ جانے آج

داغ جوں لالہ کھا چمن میں نسیم
میں بھی آیا ہوں گل کھلانے آج

لگ گیا خاک ہو کے جسم نصیرؔ
کوچۂ یار میں ٹھکانے آج