EN हिंदी
یاں ہم کو جس نے مارا معلوم ہو رہے گا | شیح شیری
yan hum ko jis ne mara malum ho rahega

غزل

یاں ہم کو جس نے مارا معلوم ہو رہے گا

جرأت قلندر بخش

;

یاں ہم کو جس نے مارا معلوم ہو رہے گا
محشر میں خوں ہمارا معلوم ہو رہے گا

گو پھول پھول کر اب تو دیکھتی ہے بلبل
گلشن کا پر نظارا معلوم ہو رہے گا

جب بحر غم میں ڈوبا دے چھوڑ دست و پا کو
آخر تجھے کنارا معلوم ہو رہے گا

اے صبر دم بہ دم اب درد و الم فزوں ہے
جتنا ہے دل کا یارا معلوم ہو رہے گا

اے آفتاب محشر کھولوں ہوں داغ دل کا
چمکا اگر یہ تارا معلوم ہو رہے گا

صد شعر عاشقوں کا ہونے لگا وفور اب
سب حوصلہ تمہارا معلوم ہو رہے گا

نقش قدم سے آخر تیری گلی میں پیارے
جس کا ہوا گزارا معلوم ہو رہے گا

افسوس راز دل کا جاسوس سن گئے ہیں
قصہ اب اس کو سارا معلوم ہو رہے گا

پوشیدہ گو ہے تجھ پر احوال میرے دل کا
ہے یہ تو آشکارا معلوم ہو رہے گا

ناچار کو بہ کو اب تحقیق کرنے پھریے
کچھ درد دل کا چارا معلوم ہو رہے گا

پنہاں ہے اب تو لیکن مرنے کے بعد جرأتؔ
درد دروں ہمارا معلوم ہو رہے گا