یاد میں تیری دو عالم کو بھلانا ہے ہمیں
عمر بھر اب کہیں آنا ہے نہ جانا ہے ہمیں
کہتے ہیں عشق کا انجام برا ہوتا ہے
اب تو کچھ بھی ہو محبت کو نبھانا ہے ہمیں
خلش عشق سے بے چین ہے دل ایک طرف
اس پہ یا رب غم ہستی بھی اٹھانا ہے ہمیں
ہائے وہ آگ جو مشکل سے جلی تھی دل میں
آج اس آگ کے شعلوں کو بجھانا ہے ہمیں
رخصت عرض تمنا نہیں ملتی نہ ملے
قصۂ شوق نگاہوں سے سنانا ہے ہمیں
آپ کانٹوں سے جو بچتے ہوئے چلتے ہیں چلیں
دامن شوق کو پھولوں سے بچانا ہے ہمیں
ہائے اس شرم محبت کا برا ہو تاباںؔ
عشق کا راز خود ان سے بھی چھپانا ہے ہمیں
غزل
یاد میں تیری دو عالم کو بھلانا ہے ہمیں
ظفر تاباں