EN हिंदी
یاد کرتے ہو مجھے سورج نکل جانے کے بعد | شیح شیری
yaad karte ho mujhe suraj nikal jaane ke baad

غزل

یاد کرتے ہو مجھے سورج نکل جانے کے بعد

عالم خورشید

;

یاد کرتے ہو مجھے سورج نکل جانے کے بعد
اک ستارہ نے یہ پوچھا رات ڈھل جانے کے بعد

میں زمیں پر ہوں تو پھر کیوں دیکھتا ہوں آسماں
یہ خیال آیا مجھے اکثر پھسل جانے کے بعد

دوستوں کے ساتھ چلنے میں بھی خطرے ہیں ہزار
بھول جاتا ہوں ہمیشہ میں سنبھل جانے کے بعد

اب ذرا سا فاصلا رکھ کر جلاتا ہوں چراغ
تجربہ یہ ہاتھ آیا ہاتھ جل جانے کے بعد

وحشت دل کو ہے صحرا سے بڑی نسبت عجیب
کوئی گھر لوٹا نہیں گھر سے نکل جانے کے بعد