EN हिंदी
یاد آتے ہو کس سلیقے سے | شیح شیری
yaad aate ho kis saliqe se

غزل

یاد آتے ہو کس سلیقے سے

روحی کنجاہی

;

یاد آتے ہو کس سلیقے سے
جیسے بارش ہو وقفے وقفے سے

یاد کوئی رہی ہو وابستہ
جیسے ہر رت کے خاص لمحے سے

جیسے یہ بھی ہو حسن کا انداز
بات کرنا مگر تقاضے سے

موسم گل کو کوئی بتلا دو
دل بھی کھلتا ہے پھول کھلنے سے

رات کا اپنا حسن ہوتا ہے
رات کو دیکھ دن کے شیشے سے

میرے سینے میں رکھ گیا ہر درد
میرا ہمدرد کس قرینے سے

اک شہادت ہے راہ میں مرنا
موت ہے لوٹ جانا رستے سے

لطف اونچی اڑان میں کیا ہے
پوچھ لینا کسی پرندے سے

ہر مخالف ہے واجب القتل آج
تیرے اسلام کے حوالے سے

کار فرما ہے کیا پس الفاظ
کتنا واضح ہے تیرے لہجے سے

کون سی بات ہو گئی ایسی
یار اٹھنے لگے ہیں چپکے سے

دیکھ رفتار زندگی روحیؔ
رک گئی گاڑی ایک جھٹکے سے