EN हिंदी
وفور شوق میں جب بھی کلام کرتے ہیں | شیح شیری
wufur-e-shauq mein jab bhi kalam karte hain

غزل

وفور شوق میں جب بھی کلام کرتے ہیں

منظور ہاشمی

;

وفور شوق میں جب بھی کلام کرتے ہیں
تو حرف حرف کو حسن تمام کرتے ہیں

گھنے درختوں کے سائے کی عمر لمبی ہو
کہ ان کے نیچے مسافر قیام کرتے ہیں

اسے پسند نہیں خواب کا حوالہ بھی
تو ہم بھی آنکھ پہ نیندیں حرام کرتے ہیں

نہ خوشبوؤں کو پتہ ہے نہ رنگ جانتے ہیں
پرند پھولوں سے کیسے کلام کرتے ہیں

رواں دواں ہیں ہوا پر سواریاں کیسی
جنہیں درخت بھی جھک کر سلام کرتے ہیں

چمن میں جب سے اسے سیر کرتے دیکھ لیا
اسی ادا سے غزالاں خرام کرتے ہیں

اب اس کو یاد نہ ہوگا ہمارا چہرہ بھی
تمام شاعری ہم جس کے نام کرتے ہیں