وفور شوق میں جب بھی کلام کرتے ہیں
تو حرف حرف کو حسن تمام کرتے ہیں
گھنے درختوں کے سائے کی عمر لمبی ہو
کہ ان کے نیچے مسافر قیام کرتے ہیں
اسے پسند نہیں خواب کا حوالہ بھی
تو ہم بھی آنکھ پہ نیندیں حرام کرتے ہیں
نہ خوشبوؤں کو پتہ ہے نہ رنگ جانتے ہیں
پرند پھولوں سے کیسے کلام کرتے ہیں
رواں دواں ہیں ہوا پر سواریاں کیسی
جنہیں درخت بھی جھک کر سلام کرتے ہیں
چمن میں جب سے اسے سیر کرتے دیکھ لیا
اسی ادا سے غزالاں خرام کرتے ہیں
اب اس کو یاد نہ ہوگا ہمارا چہرہ بھی
تمام شاعری ہم جس کے نام کرتے ہیں
غزل
وفور شوق میں جب بھی کلام کرتے ہیں
منظور ہاشمی

