EN हिंदी
وہ زمانہ گزر گیا کب کا | شیح شیری
wo zamana guzar gaya kab ka

غزل

وہ زمانہ گزر گیا کب کا

جاوید اختر

;

وہ زمانہ گزر گیا کب کا
تھا جو دیوانہ مر گیا کب کا

ڈھونڈھتا تھا جو اک نئی دنیا
لوٹ کے اپنے گھر گیا کب کا

وہ جو لایا تھا ہم کو دریا تک
پار اکیلے اتر گیا کب کا

اس کا جو حال ہے وہی جانے
اپنا تو زخم بھر گیا کب کا

خواب در خواب تھا جو شیرازہ
اب کہاں ہے بکھر گیا کب کا