EN हिंदी
وہ تو بیٹھے رہے سر جھکائے ہوئے | شیح شیری
wo to baiThe rahe sar jhukae hue

غزل

وہ تو بیٹھے رہے سر جھکائے ہوئے

حفیظ بنارسی

;

وہ تو بیٹھے رہے سر جھکائے ہوئے
جادو ان کی نگاہوں کے چلتے رہے

مشکلوں نے بہت راہ روکی مگر
جن کو منزل کی دھن تھی وہ چلتے رہے

میں انہیں بھی گلے سے لگاتا رہا
میرے بارے میں جو زہر اگلتے رہے

ہم تو قائم رہے اپنی ہر بات پر
تم برنگ زمانہ بدلتے رہے

یاد کے جگنوؤں سے وہ عالم رہا
دیپ بجھتے رہے دیپ جلتے رہے

ہم نے دامن نہ اپنا بھگویا حفیظؔ
دل میں طوفان لاکھوں مچلتے رہے