EN हिंदी
وہ شاخ گل کی طرح موسم طرب کی طرح | شیح شیری
wo shaKH-e-gul ki tarah mausam-e-tarab ki tarah

غزل

وہ شاخ گل کی طرح موسم طرب کی طرح

رضی اختر شوق

;

وہ شاخ گل کی طرح موسم طرب کی طرح
میں اپنے دشت میں تنہا چراغ شب کی طرح

خیال و فکر کی سچائیاں بھی شامل ہیں
مرے لہو میں مرے شجرۂ نسب کی طرح

وہ اپنی خلوت جاں سے پکارتا ہے مجھے
میں چاہتا ہوں اسے حرف زیر لب کی طرح

خوشا یہ دور کہ وہ بھی ہے ساتھ ساتھ مرے
مرے خیال کی صورت مری طلب کی طرح

میں اپنے عہد کی آواز نارسا ہی سہی
دھڑک رہا ہوں دلوں میں سکوت شب کی طرح

نہ کھل کے سیر ہوا میں نہ جل کے راکھ ہوا
کہ میری پیاس بھی ہے تیرے رنگ لب کی طرح