EN हिंदी
وہ رات جا چکی وہ ستارہ بھی جا چکا | شیح شیری
wo raat ja chuki wo sitara bhi ja chuka

غزل

وہ رات جا چکی وہ ستارہ بھی جا چکا

کاشف حسین غائر

;

وہ رات جا چکی وہ ستارہ بھی جا چکا
آیا نہیں جو دن وہ گزارہ بھی جا چکا

اس پار ہم کھڑے ہیں ابھی تک اور اس طرف
لہروں کے ساتھ ساتھ کنارہ بھی جا چکا

دکھ ہے ملال ہے وہی پہلا سا حال ہے
جانے کو اس گلی میں دوبارہ بھی جا چکا

کیا جانے کس خیال میں عمر رواں گئی
ہاتھوں سے زندگی کے خسارہ بھی جا چکا

کاشفؔ حسین چھوڑیئے اب زندگی کا کھیل
جیتا بھی جا چکا اسے ہارا بھی جا چکا