EN हिंदी
وہ پری ہی نہیں کچھ ہو کے کڑی مجھ سے لڑی | شیح شیری
wo pari hi nahin kuchh ho ke kaDi mujhse laDi

غزل

وہ پری ہی نہیں کچھ ہو کے کڑی مجھ سے لڑی

انشاءؔ اللہ خاں

;

وہ پری ہی نہیں کچھ ہو کے کڑی مجھ سے لڑی
آنکھ نرگس سے بھی دو چار گھڑی مجھ سے لڑی

واسطے تیرے مرا رنگ محل ہے دشمن
تیری خاطر تو ہر اک چھوٹی بڑی مجھ سے لڑی

جھڑ لگا دی مری آنکھوں نے تو لو اور سنو
ٹکٹکی باندھ کے کیوں منہ کی جھڑی مجھ سے لڑی

رات لڑ بھڑ وہ جو چپ ہو رہی تو ان کے عوض
بولتے تھے وہ جو سونے کی گھڑی مجھ سے لڑی

بیٹھے بیٹھے کہیں بلبل کو جو چھیڑا میں نے
تو نسیم اس کی بدل ہو کے کھڑی مجھ سے لڑی

کون سی حور یہاں کھیلنے چوتھی آئی
بوئے گل لے کے جو پھولوں کی چھڑی مجھ سے لڑی

روٹھ کر ان کی گلی میں جو لگا تو انشاؔ
ہر اک اس دو لڑی موتی کی لڑی مجھ سے لڑی