وہ پاگل سب کے آگے رو چکا ہے
کسی کا دکھ کوئی کب بانٹتا ہے
ہزاروں بار مجھ سے مل چکا ہے
ضرورت ہو تبھی پہچانتا ہے
کبھی تو ملک کا مالک کہیں گے
کبھی اک اردلی بھی ڈانٹتا ہے
یہ گھر ہے اپنی مرضی جی رہا ہے
پتا ہے رات ساری جاگتا ہے
وہ پیارے دل میں آ کر بس گئے ہے
جو ان کو بھا گیا وہ دیوتا ہے
غزل
وہ پاگل سب کے آگے رو چکا ہے
پرتاپ سوم ونشی

