EN हिंदी
وہ پاگل سب کے آگے رو چکا ہے | شیح شیری
wo pagal sab ke aage ro chuka hai

غزل

وہ پاگل سب کے آگے رو چکا ہے

پرتاپ سوم ونشی

;

وہ پاگل سب کے آگے رو چکا ہے
کسی کا دکھ کوئی کب بانٹتا ہے

ہزاروں بار مجھ سے مل چکا ہے
ضرورت ہو تبھی پہچانتا ہے

کبھی تو ملک کا مالک کہیں گے
کبھی اک اردلی بھی ڈانٹتا ہے

یہ گھر ہے اپنی مرضی جی رہا ہے
پتا ہے رات ساری جاگتا ہے

وہ پیارے دل میں آ کر بس گئے ہے
جو ان کو بھا گیا وہ دیوتا ہے