EN हिंदी
وہ نخل جو بار ور ہوئے ہیں | شیح شیری
wo naKHl jo bar-war hue hain

غزل

وہ نخل جو بار ور ہوئے ہیں

اسلم انصاری

;

وہ نخل جو بار ور ہوئے ہیں
آشوب خزاں سے ڈر رہے ہیں

شاخوں پہ تیر کے زخم ہیں یہ
یا پھر سے گلاب جھانکتے ہیں

ظلمت میں بہت ہی یاد آئے
وہ چاند جو ہم سفر رہے ہیں

لے دست ہوس یہ پھول تیرے
کانٹے تو وفا نے چن لئے ہیں

بدلا نہ نوشتۂ مقدور
مکتوب تو ہم نے بھی لکھے ہیں

پامال جہاں ہوئے کہ ہم نے
کچھ خواب جہاں کو بھی دیے ہیں

ٹوٹی ہے کہیں صدا کی زنجیر
حلقے سے خیال کے پڑے ہیں

صحرا کا سکوت کہہ رہا ہے
شہروں کے چراغ بجھ گئے ہیں

اے عشق جنوں شعار تیرے
دنیا میں عجیب سلسلے ہیں

چمکی ہے جو سرنوشت آدم
تہذیب کے نقش بن گئے ہیں

آفاق کی وسعتوں سے آگے
کچھ اور چراغ جل اٹھے ہیں

انساں کا شعور کہہ رہا ہے
انساں نے بہت سے دکھ سہے ہیں