EN हिंदी
وہ نہیں ہم جو ڈر ہی جاویں گے | شیح شیری
wo nahin hum jo Dar hi jawenge

غزل

وہ نہیں ہم جو ڈر ہی جاویں گے

میر حسن

;

وہ نہیں ہم جو ڈر ہی جاویں گے
دل میں جو ہے سو کر ہی جاویں گے

تجھ سے جس دم جدا ہوئے مری جان
پھر یہ سنیو کہ مر ہی جاویں گے

دید پھر پھر جہان کی کر لیں
آخرش تو گزر ہی جاویں گے

جی تو لگتا نہیں جہاں دل ہے
ہم بھی اب تو ادھر ہی جاویں گے

بے خبر جس طرح سے آئے ہیں
اس طرح بے خبر ہی جاویں گے

تجھ کو غیروں سے کام ہے تو رہ
ہم بھی اب اپنے گھر ہی جاویں گے

دل کو لکھ پڑھ کے دیجیو تو حسنؔ
ورنہ دلبر مکر ہی جاویں گے