EN हिंदी
وہ مجھ سے بے خبر ہیں ان کی عادت ہی کچھ ایسی ہے | شیح شیری
wo mujhse be-KHabar hain unki aadat hi kuchh aisi hai

غزل

وہ مجھ سے بے خبر ہیں ان کی عادت ہی کچھ ایسی ہے

حسن بریلوی

;

وہ مجھ سے بے خبر ہیں ان کی عادت ہی کچھ ایسی ہے
میں ان کو یاد کرتا ہوں محبت ہی کچھ ایسی ہے

میں آؤں وعظ میں سو بار جب یہ دل بھی آنے دے
کروں کیا واعظو رندوں کی صحبت ہی کچھ ایسی ہے

میں کس گنتی میں ہوں اور اک مرے دل کی حقیقت کیا
ہزاروں جان دیتے ہیں وہ صورت ہی کچھ ایسی ہے

کوئی آئے یہ آتی ہے کوئی جائے یہ جاتا ہے
مرا دل ہی کچھ ایسا ہے طبیعت ہی کچھ ایسی ہے

ہمارا کیا بگڑ جاتا حسنؔ تیری سفارش میں
ہماری ان کی اب صاحب سلامت ہی کچھ ایسی ہے