EN हिंदी
وہ مرے شہر میں آتا ہے چلا جاتا ہے | شیح شیری
wo mere shahr mein aata hai chala jata hai

غزل

وہ مرے شہر میں آتا ہے چلا جاتا ہے

ہاشم رضا جلالپوری

;

وہ مرے شہر میں آتا ہے چلا جاتا ہے
سب کو دیوانہ بناتا ہے چلا جاتا ہے

زندگی جس کی اجڑ جاتی ہے اس سے پوچھو
زلزلہ شہر میں آتا ہے چلا جاتا ہے

ایک دو بوند برس کر یہ گرجتا بادل
دشت کی پیاس بڑھاتا ہے چلا جاتا ہے

ناخدا ہی نہیں موجوں کا تھپیڑا اکثر
کشتیاں پار لگاتا ہے چلا جاتا ہے

کون وہ کرسی نشیں ہے کہ ہر آنے والا
سر تسلیم جھکاتا ہے چلا جاتا ہے

جانے کب سے وہ سر شام مزار دل پر
شمع امید جلاتا ہے چلا جاتا ہے