EN हिंदी
وہ مرے خواب پیرہن چھو کر | شیح شیری
wo mere KHwab-e-pairahan chhu kar

غزل

وہ مرے خواب پیرہن چھو کر

عشرت آفریں

;

وہ مرے خواب پیرہن چھو کر
اٹھ گیا آنکھ کی چبھن چھو کر

پھر وہ مانوس خوشبوئیں لوٹیں
پھر ہوائیں چلیں بدن چھو کر

خواب آنکھوں میں رنگ تیر گئے
بدلیاں آ گئیں کرن چھو کر

دور کیوں پتھروں پہ جا بیٹھا
وہ مری روح کی تھکن چھو کر

تتلیاں جنگلوں کو لوٹ گئیں
رنگ فطرت چمن چمن چھو کر

کھائی ہوگی وہی قسم تو نے
پھر کسی زلف کی شکن چھو کر