وہ کون ہے وہ کیا ہے جو اس دل میں چھپا ہے
جیسے کہ کوئی سانپ کسی بل میں چھپا ہے
کیوں دوڑ کے آتی ہیں ادھر موجیں مسلسل
کیا کم ہے سمندر میں جو ساحل میں چھپا ہے
اک روح بلاتی ہے عناصر کے قفس سے
پر ہوش کسی خواب کی محفل میں چھپا ہے
سینہ کو مرے سنگ وہ ہونے نہیں دیتا
کچھ موم کے جیسا بھی اسی سل میں چھپا ہے
میں کیسے دکھاؤں کہ وہ لفظوں سے بنا ہے
اک تیر جو اس سینۂ بسمل میں چھپا ہے
دھڑکن کو مری چھو کے پرکھتا ہے پلٹ کر
اک خوف ابھی تک مرے قاتل میں چھپا ہے
غزل
وہ کون ہے وہ کیا ہے جو اس دل میں چھپا ہے
مینک اوستھی

