EN हिंदी
وہ کون ہے وہ کیا ہے جو اس دل میں چھپا ہے | شیح شیری
wo kaun hai wo kya hai jo is dil mein chhupa hai

غزل

وہ کون ہے وہ کیا ہے جو اس دل میں چھپا ہے

مینک اوستھی

;

وہ کون ہے وہ کیا ہے جو اس دل میں چھپا ہے
جیسے کہ کوئی سانپ کسی بل میں چھپا ہے

کیوں دوڑ کے آتی ہیں ادھر موجیں مسلسل
کیا کم ہے سمندر میں جو ساحل میں چھپا ہے

اک روح بلاتی ہے عناصر کے قفس سے
پر ہوش کسی خواب کی محفل میں چھپا ہے

سینہ کو مرے سنگ وہ ہونے نہیں دیتا
کچھ موم کے جیسا بھی اسی سل میں چھپا ہے

میں کیسے دکھاؤں کہ وہ لفظوں سے بنا ہے
اک تیر جو اس سینۂ بسمل میں چھپا ہے

دھڑکن کو مری چھو کے پرکھتا ہے پلٹ کر
اک خوف ابھی تک مرے قاتل میں چھپا ہے