EN हिंदी
وہ کہیں تھا کہیں دکھائی دیا | شیح شیری
wo kahin tha kahin dikhai diya

غزل

وہ کہیں تھا کہیں دکھائی دیا

فہمی بدایونی

;

وہ کہیں تھا کہیں دکھائی دیا
میں جہاں تھا وہیں دکھائی دیا

خواب میں اک حسیں دکھائی دیا
وہ بھی پردہ نشیں دکھائی دیا

جب تلک تو نہیں دکھائی دیا
گھر کہیں کا کہیں دکھائی دیا

روز چہرہ نے آئنہ بدلے
جو نہیں تھا نہیں دکھائی دیا

بد مزہ کیوں ہیں آسماں والے
میں زمیں تھا زمیں دکھائی دیا

اس کو لے کر چلی گئی گاڑی
پھر ہمیں کچھ نہیں دکھائی دیا