وہ جنہیں دشت انا سے پار ہونا تھا ہوئے
ہم کو لیکن صاحب کردار ہونا تھا ہوئے
کب تلک جیتے وصالوں کی تمناؤں میں لوگ
زندگی سے ایک دن بیزار ہونا تھا ہوئے
اور تھے وہ جن کو جاگیریں عطا اس سے ہوئیں
اپنی قسمت میں تو بس فن کار ہونا تھا ہوئے
کچھ پرندوں کو ملی اونچی اڑانوں کی سزا
کچھ کو لیکن قید میں پر دار ہونا تھا ہوئے
ہم کو بننا تھا کڑی زنجیر کی ہم بن گئے
وہ جنہیں پازیب کی جھنکار ہونا تھا ہوئے
کوشش پیہم سے بھی کوئی نہ بن پائی لکیر
کھینچنا تھے دائرے پرکار ہونا تھا ہوئے
وار اپنے آپ پر کرنا تھا اسعدؔ تہ بہ تہ
ہم کو اک ٹوٹی ہوئی تلوار ہونا تھا ہوئے
غزل
وہ جنہیں دشت انا سے پار ہونا تھا ہوئے
اسعد بدایونی

