EN हिंदी
وہ جب رنگ پریشانی کو خلوت گیر دیکھیں گے | شیح شیری
wo jab rang-e-pareshani ko KHalwat-gir dekhenge

غزل

وہ جب رنگ پریشانی کو خلوت گیر دیکھیں گے

سیماب اکبرآبادی

;

وہ جب رنگ پریشانی کو خلوت گیر دیکھیں گے
تو اپنے ہر تصور میں مری تصویر دیکھیں گے

سنا ہے حسن کو دہ چند کر دیتا ہے یہ شیشہ
لگا کر اپنے دل میں آپ کی تصویر دیکھیں گے

وفا کا تذکرہ کیا اب تو یہ ارشاد ہے ان کا
کہ تم نالہ کرو ہم گرمئ تاثیر دیکھیں گے

شکستہ ہر کڑی ہے ہر کڑی میں دل کے ٹکڑے ہیں
بڑی عبرت سے دیوانے مری زنجیر دیکھیں گے

خیال حشر و نشر فکر اے سیمابؔ لا حاصل
کہ ہے تقدیر میں جو کچھ بہر تقدیر دیکھیں گے