وہ ہوا کا مزاج رکھتے ہیں
ہم چراغوں کی طرح جلتے ہیں
اس کی قدرت کو دیکھ کر یارو
ہم بھی ایمان اس پہ رکھتے ہیں
جھوم کر تو اٹھے ہیں یہ بادل
دیکھیے اب کہاں برستے ہیں
ساری بے رنگ سوچ کے چہرے
لفظ پہنیں تو پھر نکھرتے ہیں
کیا خبر تھی ہمیں کہ لوگوں کی
آستینوں میں سانپ پلتے ہیں
غزل
وہ ہوا کا مزاج رکھتے ہیں
پریم بھنڈاری

