EN हिंदी
وہ ہوا کا مزاج رکھتے ہیں | شیح شیری
wo hawa ka mizaj rakhte hain

غزل

وہ ہوا کا مزاج رکھتے ہیں

پریم بھنڈاری

;

وہ ہوا کا مزاج رکھتے ہیں
ہم چراغوں کی طرح جلتے ہیں

اس کی قدرت کو دیکھ کر یارو
ہم بھی ایمان اس پہ رکھتے ہیں

جھوم کر تو اٹھے ہیں یہ بادل
دیکھیے اب کہاں برستے ہیں

ساری بے رنگ سوچ کے چہرے
لفظ پہنیں تو پھر نکھرتے ہیں

کیا خبر تھی ہمیں کہ لوگوں کی
آستینوں میں سانپ پلتے ہیں