EN हिंदी
وہ حرف شوق ہوں جس کا کوئی سیاق نہ ہو | شیح شیری
wo harf-e-shauq hun jis ka koi siyaq na ho

غزل

وہ حرف شوق ہوں جس کا کوئی سیاق نہ ہو

شاہد عشقی

;

وہ حرف شوق ہوں جس کا کوئی سیاق نہ ہو
سمجھ سکو نہ اگر عشق کا مراق نہ ہو

ترے فراق سے مانوس ہو کے سوچتا ہوں
تری وفا کی طرح یہ بھی اک مذاق نہ ہو

جدا نہ ہوں جنہیں یارانہ ہو جدائی کا
ملیں نہ وہ جنہیں ملنے کا اشتیاق نہ ہو

ہزار شوق ترا کم ہو پر خدا نہ دکھائے
وہ دن کہ تیری جدائی بھی دل پہ شاق نہ ہو

بھلا ہوا کہ غم عاشقی شعار کیا
وہ کیا کرے جو کسی بھی ہنر میں طاق نہ ہو