وہ ایک سجدہ کہ جو بے رکوع ہوتا ہے
عجب مقام خشوع و خضوع ہوتا ہے
بساط الٹتی ہے شب کی ستارے بجھتے ہیں
چراغ گل کرو سورج طلوع ہوتا ہے
مورخوں سے کہو لکھیں اک نئی تاریخ
وہ آسمان زمیں سے رجوع ہوتا ہے
زبان ملتی ہے دھڑکن کو استعاروں کی
بیان دل کا محل وقوع ہوتا ہے
غزل
وہ ایک سجدہ کہ جو بے رکوع ہوتا ہے
عشرت قادری

