EN हिंदी
وہ ایک سجدہ کہ جو بے رکوع ہوتا ہے | شیح شیری
wo ek sajda ki jo be-rukua hota hai

غزل

وہ ایک سجدہ کہ جو بے رکوع ہوتا ہے

عشرت قادری

;

وہ ایک سجدہ کہ جو بے رکوع ہوتا ہے
عجب مقام خشوع و خضوع ہوتا ہے

بساط الٹتی ہے شب کی ستارے بجھتے ہیں
چراغ گل کرو سورج طلوع ہوتا ہے

مورخوں سے کہو لکھیں اک نئی تاریخ
وہ آسمان زمیں سے رجوع ہوتا ہے

زبان ملتی ہے دھڑکن کو استعاروں کی
بیان دل کا محل وقوع ہوتا ہے